China And Ummah Musilma Big Demand, Iran & Us isreel Waar

چین کا مؤقف اور اُمتِ مسلمہ کا اتحاد
حالیہ عرصے میں عالمی سیاست میں کئی ایسے بیانات اور واقعات سامنے آئے ہیں جنہوں نے دنیا بھر کے مسلمانوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی ہے۔ ان میں ایک خبر یہ بھی زیرِ بحث آئی کہ چین نے اسرائیل سے متعلق سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے جنگ کو روکنے اور خطے میں امن قائم کرنے کی بات کی۔ یہ معاملہ صرف ایک سیاسی بیان نہیں بلکہ عالمی سطح پر انصاف، امن اور انسانی حقوق کے حوالے سے ایک بڑی بحث کا حصہ ہے۔ اس تناظر میں اُمتِ مسلمہ کے اتحاد کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ اہم نظر آتی ہے۔
دنیا میں تقریباً دو ارب مسلمان بستے ہیں جو مختلف ممالک، ثقافتوں اور زبانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ اگرچہ ان کی جغرافیائی اور سیاسی صورتحال مختلف ہے، لیکن دینِ اسلام انہیں ایک مضبوط رشتے میں باندھتا ہے۔ قرآنِ کریم میں بھی مسلمانوں کو اتحاد اور بھائی چارے کی تلقین کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ “اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔” یہی پیغام اُمتِ مسلمہ کے لیے بنیادی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
عالمی سطح پر فلسطین کا مسئلہ مسلمانوں کے لیے ایک اہم اور حساس موضوع ہے۔ فلسطینی عوام کئی دہائیوں سے مشکلات اور تنازعات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس مسئلے نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کی سیاست کو متاثر کیا ہے۔ مختلف ممالک اس معاملے پر مختلف مؤقف رکھتے ہیں۔ بعض ممالک اسرائیل کی حمایت کرتے ہیں جبکہ بعض فلسطینیوں کے حقِ خود ارادیت کی بات کرتے ہیں۔ ایسے ماحول میں اگر کوئی بڑی طاقت امن اور جنگ کے خاتمے کی بات کرتی ہے تو یہ عالمی توجہ کا مرکز بن جاتی ہے۔
چین ایک بڑی عالمی طاقت ہے جس کا اثر و رسوخ سیاسی، معاشی اور سفارتی میدانوں میں تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ چین اکثر یہ مؤقف اختیار کرتا ہے کہ عالمی تنازعات کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ اگر چین یا کوئی اور ملک خطے میں امن کے قیام کی بات کرتا ہے تو اس کا مقصد عموماً یہ ہوتا ہے کہ جنگ اور تباہی کو روکا جائے اور مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے۔ تاہم عالمی سیاست میں ہر بیان کے پیچھے مختلف سیاسی مفادات بھی ہوتے ہیں، اس لیے کسی بھی خبر کو سمجھنے کے لیے وسیع تناظر کو دیکھنا ضروری ہوتا ہے۔
یہ صورتحال اُمتِ مسلمہ کے لیے ایک اہم پیغام رکھتی ہے۔ دنیا میں مسلمان اگرچہ بڑی تعداد میں موجود ہیں لیکن سیاسی طور پر اکثر منتشر نظر آتے ہیں۔ مختلف ممالک کے اپنے اپنے مفادات، پالیسیاں اور مسائل ہیں۔ اگر مسلمان ممالک باہمی اتحاد، تعاون اور مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کریں تو وہ عالمی سطح پر زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔
اتحاد کا مطلب صرف سیاسی اتحاد نہیں بلکہ معاشی، تعلیمی اور سماجی تعاون بھی ہے۔ اگر مسلم ممالک تجارت، ٹیکنالوجی، تعلیم اور تحقیق کے میدان میں ایک دوسرے کے ساتھ مضبوط روابط قائم کریں تو وہ نہ صرف اپنے مسائل بہتر طریقے سے حل کر سکتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی مضبوط پوزیشن حاصل کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر اسلامی تعاون تنظیم (OIC) ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو مسلم ممالک کو ایک جگہ اکٹھا کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا، لیکن اس تنظیم کو مزید فعال اور مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔
اتحاد کے ساتھ ساتھ شعور اور حکمت بھی ضروری ہے۔ صرف جذباتی ردِ عمل کافی نہیں ہوتا بلکہ مسائل کو سمجھ کر دانشمندانہ فیصلے کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ اسلام ہمیں انصاف، امن اور اعتدال کا درس دیتا ہے۔ اگر مسلمان ان اصولوں کو اپنی اجتماعی پالیسیوں کا حصہ بنائیں تو وہ دنیا میں مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔
میڈیا اور سوشل میڈیا کے دور میں خبریں بہت تیزی سے پھیلتی ہیں۔ بعض اوقات خبریں مکمل حقائق پر مبنی نہیں ہوتیں یا انہیں بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ مسلمان کسی بھی خبر کو بغیر تحقیق کے قبول نہ کریں بلکہ مستند ذرائع سے اس کی تصدیق کریں۔ باشعور معاشرہ ہی مضبوط اور متحد معاشرہ بن سکتا ہے۔
نوجوان نسل بھی اُمتِ مسلمہ کے اتحاد میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ تعلیم، تحقیق اور ٹیکنالوجی کے ذریعے مسلمان نوجوان اپنے ممالک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔ اگر نوجوان اپنے دین، ثقافت اور تاریخ سے آگاہ ہوں اور ساتھ ہی جدید علوم بھی حاصل کریں تو وہ دنیا میں مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں۔
اسلامی تاریخ میں ہمیں اتحاد کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں۔ جب مسلمان متحد تھے تو انہوں نے علم، تہذیب اور انصاف کے میدان میں عظیم کامیابیاں حاصل کیں۔ بغداد، قرطبہ اور دمشق جیسے شہر علم و دانش کے مراکز تھے جہاں دنیا بھر کے لوگ علم حاصل کرنے آتے تھے۔ یہ کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ اتحاد اور علم کسی بھی قوم کو ترقی کی بلندیوں تک پہنچا سکتے ہیں۔
آج کے دور میں اُمتِ مسلمہ کو بھی اسی جذبے کی ضرورت ہے۔ اختلافات کو کم کر کے مشترکہ مقاصد پر توجہ دینا ضروری ہے۔ اگر مسلمان ممالک باہمی احترام، تعاون اور انصاف کے اصولوں پر عمل کریں تو وہ نہ صرف اپنے مسائل حل کر سکتے ہیں بلکہ عالمی امن کے قیام میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ دنیا میں جاری تنازعات اور سیاسی بیانات ہمیں یہ یاد دلاتے ہیں کہ اتحاد، شعور اور حکمت کتنے اہم ہیں۔ اُمتِ مسلمہ اگر اپنے اندر اتحاد، تعلیم اور انصاف کو فروغ دے تو وہ ایک مضبوط اور باوقار مقام حاصل کر سکتی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو مسلمانوں کو ترقی، امن اور عزت کی طرف لے جا سکتا ہے۔

Dr,Amanullah.

Comments

2 responses to “China And Ummah Musilma Big Demand, Iran & Us isreel Waar”

  1. hrdzwvoqep Avatar

    nwrpryxqxtfhljydftomxmqrugiqjy

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *