ایران کی کامیابی اور مسلم اُمّہ کا اتحاد

موضوع: ایران کی کامیابی اور مسلم موضوع: ایران کی کامیابی اور مسلم اُمّہ کا اتحاد کا اتحاد
اسلام ایک ایسا دین ہے جو صرف عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ اسلام کی بنیادی تعلیمات میں سے ایک اہم تعلیم اتحادِ اُمّت ہے۔ لفظ اُمّہ سے مراد دنیا بھر کے تمام مسلمانوں کی وہ مشترکہ جماعت ہے جو ایمان اور عقیدے کے رشتے سے جڑی ہوتی ہے۔ �
آج کے دور میں جب مسلمان مختلف مسائل، جنگوں اور سیاسی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، اس وقت مسلم اُمّہ کے اتحاد کی ضرورت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اس تناظر میں ایران کی بعض کامیابیاں اور اس کا اتحادِ اُمّت کا تصور مسلمانوں کے درمیان ایک اہم موضوع بن چکا ہے۔
Wikipedia
سب سے پہلے ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ اسلام مسلمانوں کو تفرقہ اور اختلاف سے بچنے کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: “اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔” اس آیت کا مقصد یہی ہے کہ مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ اتحاد اور بھائی چارہ قائم رکھیں۔ جب مسلمان متحد ہوتے ہیں تو وہ نہ صرف اپنے مسائل حل کر سکتے ہیں بلکہ دنیا میں بھی ایک مضبوط قوت بن سکتے ہیں۔
ایران کی تاریخ میں 1979 کا اسلامی انقلاب ایک اہم موڑ سمجھا جاتا ہے۔ اس انقلاب نے ایران میں ایک نئی سیاسی اور مذہبی نظام کی بنیاد رکھی اور دنیا بھر کے مسلمانوں میں بیداری کی ایک لہر پیدا کی۔ اس انقلاب کے بعد ایران نے کئی مواقع پر مسلم اُمّہ کے اتحاد کی بات کی اور مختلف کانفرنسوں اور اجلاسوں کے ذریعے مسلمانوں کو قریب لانے کی کوشش کی۔ مثال کے طور پر تہران میں اسلامی اتحاد کانفرنس منعقد کی جاتی ہے جس میں مختلف ممالک کے علماء اور دانشور شریک ہوتے ہیں تاکہ مسلمانوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کی جا سکے۔ �
Wikipedia
ایران کے رہنماؤں نے بھی بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ مسلم ممالک کا اتحاد انتہائی ضروری ہے۔ ان کے مطابق اگر مسلمان متحد ہو جائیں تو وہ اپنے دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنا سکتے ہیں اور دنیا میں انصاف و امن قائم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ �

ایران کی بعض کامیابیاں، خصوصاً سیاسی اور دفاعی میدان میں، بعض مسلمانوں کے نزدیک اس بات کی علامت سمجھی جاتی ہیں کہ مسلمان اگر مضبوط ارادہ کریں تو بڑی طاقتوں کے مقابلے میں بھی کھڑے ہو سکتے ہیں۔ اس وجہ سے کچھ حلقوں میں ایران کو مزاحمت اور خودمختاری کی علامت کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ مسلم دنیا میں مختلف سیاسی، مسلکی اور علاقائی اختلافات موجود ہیں جو اتحاد کے راستے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔
مسلم اُمّہ کے اتحاد کے لیے سب سے اہم چیز باہمی احترام اور برداشت ہے۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کی عزت کی جائے۔ اگر مسلمان فرقہ واریت، نفرت اور تعصب کو چھوڑ کر مشترکہ مسائل پر توجہ دیں تو وہ ایک مضبوط اور متحد قوم بن سکتے ہیں۔
اتحاد کا مطلب یہ نہیں کہ تمام ممالک ایک ہی حکومت کے تحت آ جائیں، بلکہ اس کا اصل مقصد یہ ہے کہ مسلمان مشترکہ مفادات کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں۔ مثال کے طور پر تعلیم، معیشت، تجارت، سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں اگر مسلم ممالک مل کر کام کریں تو وہ ترقی کی نئی منازل طے کر سکتے ہیں۔
ایران کی جانب سے اتحاد کی بات اس بات کی یاد دہانی ہے کہ مسلمانوں کے مسائل صرف ایک ملک کے نہیں بلکہ پوری اُمّہ کے مسائل ہیں۔ فلسطین، کشمیر اور دیگر علاقوں کے مسائل اس وقت بہتر انداز میں حل ہو سکتے ہیں جب مسلمان آپس میں متحد ہوں اور ایک دوسرے کا ساتھ دیں۔
آج کے دور میں میڈیا اور سوشل میڈیا نے دنیا کو ایک گلوبل گاؤں بنا دیا ہے۔ اس لیے مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ مثبت پیغام، بھائی چارہ اور اتحاد کو فروغ دیں۔ نوجوان نسل کو بھی چاہیے کہ وہ نفرت اور تعصب سے دور رہ کر علم، تحقیق اور ترقی کی طرف توجہ دے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایران کی کامیابی یا کسی بھی مسلم ملک کی کامیابی دراصل پوری مسلم اُمّہ کے لیے ایک امید کی کرن ہو سکتی ہے، بشرطیکہ مسلمان اس سے سبق سیکھیں اور آپس میں اتحاد پیدا کریں۔ اگر مسلمان قرآن و سنت کی تعلیمات کو اپنا لیں، ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کریں اور مشترکہ مفادات کے لیے مل کر کام کریں تو وہ نہ صرف اپنی مشکلات پر قابو پا سکتے ہیں بلکہ دنیا میں امن، انصاف اور ترقی کا پیغام بھی پھیلا سکتے ہیں۔
نتیجہ:
مسلم اُمّہ کی اصل طاقت اتحاد، ایمان اور اخوت میں ہے۔ جب مسلمان متحد ہوں گے تو وہ ہر مشکل کا مقابلہ کر سکیں گے اور دنیا میں ایک باوقار اور مضبوط مقام حاصل کر سکیں گے۔


Dr, Amanullah

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *